کاروار، 14؍اپریل (ایس او نیوز)دریائے گنگاولی کے کنارے آباد انکولہ تعلقہ کے درجنوں گاؤں کے عوام نے کاروار میں ڈپٹی کمشنر دفتر کے روبرو احتجاجی مظاہرہ کے ساتھ مطالبہ کیا کہ انہیں بغیر کسی رکاوٹ کے مسلسل تھری فیس بجلی فراہم کی جائے جو کہ زراعتی مقاصد اور گھریلو استعمال کا پانی حاصل کرنے کے لئے بہت ہی ضروری ہے۔
خیال رہے کہ انکولہ تعلقہ کے ڈونگری، سومانالہ، اگاسورو، کائیگاڈی، ہیگّار، کلّیشور جیسے درجنوں گاؤں دریائے گنگاولی کے دونوں کناروں پر آباد ہیں ۔ اور اسی دریا کے پانی سے ان کی گھریلو اور زراعتی مقاصد پورے ہوتے ہیں۔ لہٰذا پانی حاصل کرنے کے لئے پمپ سیٹ چلنا ضروری ہے اور اس کے لئے تھری فیس بجلی کی فراہمی لازمی ہے۔
کہتے ہیں کہ اس طرح پمپ سیٹ سے دریا کا پانی نکالنا غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ضلع انتظامیہ نے ہیسکام کو ہدایت دی ہے کہ ان دیہاتوں کو تھری فیس بجلی کی سپلائی روک دی جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دریا کے پانی کوصرف پینے کے لیے استعمال کرتے ہوئے کاروار ، انکولہ ، گوکرن اور نیول بیس کے لئے مختص کیا گیا ہے۔
احتجاجی دیہاتیوں کا کہنا تھا کہ انہیں پینے کا پانی حاصل کرنے کے لئے بھی پمپ سیٹ کی بجلی فراہم نہیں کی جارہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کم از کم دن میں چھ گھنٹے کے لئے تو بجلی فراہم کی جائے جس سے وہ اپنے سپاری کے باغات کو پانی دے سکیں۔احتجاجی کمیٹی کے صدر شیورام گاؤنکر کا کہنا ہے کہ کمٹہ کے اسسٹنٹ کمشنر نے ان کے گاؤں پہنچ کر یہ حکم سنایا کہ تھری فیس بجلی کی فراہمی منقطع کی جارہی ہے اور اب صرف سنگل فیس بجلی شام 7بجے سے صبح7بجے تک ان دیہاتوں میں فراہم کی جائے گی۔
احتجاجیوں سے میمورنڈم قبول کرنے کے بعد ڈپٹی کمشنر ایس ایس نکول نے بتایا کہ ریاستی سرکار کے حکم کے مطابق ان علاقوں میں زراعتی سرگرمیوں کے لئے تھری فیس بجلی منقطع کی گئی ہے، اور آئندہ ڈیڑھ مہینے تک کے لئے تمام آبی ذرائع کو صرف پینے اور گھریلو استعمال کے لئے مختص کیا گیا ہے۔اب تین دنوں کے لئے ان دیہاتوں میں تھری فیس بجلی صرف پینے کا پانی حاصل کرنے کے لئے فراہم کی جائے گی۔ اس کے بعد پھر دریا کے پانی کی سطح کا معائنہ کرنے کے بعد دوبارہ اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔